پانامہ زدہ حکمرانوں کو اقامہ زدہ بنانے والے سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ تحریر ؛ صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی

پانامہ زدہ حکمرانوں کو اقامہ زدہ بنانے والے سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
(سوچ ویب نیوز ،نوائے سوچ )
قانون کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناطے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ نوز شریف کے خاندان کی سیاست کا اعلیٰ عدلیہ نے دھڑن تختہ کردیا ہے۔ فوجی آمروں کے خلاف پیپلز پارٹی نے جنگ لڑی جس کی وجہ سے یہ پارٹی کافی مرتبہ اقتدار میں رہی۔ لیکن بعد ازاں زرداری صاحب کی قیادت میں اِس پارٹی کا بھی صفایا ہوگیا ہے کم ازکم پنجاب خیبر پی کے اور بلوچستان میں تو یہی صورتحال ہے۔ جناب نواز شریف کی جانب سے بارہا کہا گیا کہ مجھے کیوں نکالا۔ اور اُن کی جانب سے سپریم کورٹ میں ایک ریویو پٹیشن بھی دائر کی گئی جس میں تو پھر سپریم کورٹ نے نواز شریف کو کھری کھری سُنا دیں کہ آپ نے تو پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر عوام کو بے وقوف بنایا۔ اِس عہد کی اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے شریف فیملی کے مقدمات کے جو فیصلہ جات آئے ہیں اُن کا تصور نواز شریف کبھی خواب میں بھی نہ کر سکتے تھے۔ اِس لیے نواز شریف گلہ پھاڑ پھاڑ کر کہ رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا۔ بہرحال نواز شریف جو محاذ آرائی کا ماحول بنا رہے ہیں وہ چاہیتے ہیں کہ ملک میں اسٹیبلشمنٹ کوئی ایسا اقدام اُٹھانے پر مجبور ہو جائے جس کا وہ بعد میں فائدہ اُٹھا سکیں۔
مریم نواز شریف بنام عمران خان نیازی کیس جس کا فیصلہ سپریم کورٹ نے کیا تھا بعد ازاں اِس فیصلے کے خلاف ریویو پٹیشن دائر کی گئی تھی۔ جس کا فیصلہ سُنایاگیا۔ کیونکہ اِس کیس نے پاکستانی سیاست میں بھونچال پیدا کردیا اور نواز شریف اِس کیس کے فیصلے بعد شدید غصے میں آئے۔ اُن کا یہ مکالمہ زبان زدِ عام ہوگیا کہ مجھے کیوں نکالا۔ کیس پانامہ کا تھا نکالا اقامہ پہ گیا۔سول ریویو پٹیشن نمبر 297/2017 اِن کانسٹی ٹیوشن پٹیشن آف 29, 30 /2016 کیس بنام یم نواز شریف وغیرہ بنام عمران خن نیازی وغیرہ۔اِس اپیل کا فیصلہ 15-9-2017 کو سُنایا گیا۔ کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ، گلزار احمد،شیخ عظمت سعید، اعجاز الحسن اور اعجاز افضل خان نے کی ۔جبکہ پٹیشنرز کی جانب سے خواجہ حارث ، شاہد حامد ، سلمان اکرم راجہ ایڈوکیٹس پیش ہوئے ۔فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ نیب اِس فیصلے کی تاریخ سے چھ ہفتوں کے اندر اندر احتساب عدالت راولپنڈی/ اسلام آباد میں درج ذیل ریفرنسز دائر کرئے اور یہ ریفرنس اُس مواد کی بنیاد پر ہوگا جو کہ جے آئی ٹی نے اکٹھا کیا ہے یا جس کا حوالہ جے آئی ٹی نے دیا اور دوسرا مواد وہ جو ایف آئی اے اور نیب نے درج ذیل اثاثہ جات کے حوالے سے اکھٹا کریں گے یا کوئی بھی مواد جو قانون کی مدد کے لیے دستیاب ہو۔ ریفرنس میں میاں محمد نواز شریف جو کہ ریسپاونڈنٹ نمبر 1 ہیں مریم صفدر جو کہ ریسپونڈنٹ نمبر 6، حسین نواز شریف ریسپاونڈنٹ نمبر 7 اور حسن نواز ریسپانڈنٹ نمبر 8 محمد صفدرریسپاونڈنٹ نمبر 9جن کا تعلق ایون فیلڈ پراپرٹی فلیٹ نمبر 16,16-A,17, 17-A ایوین فیلڈ ہاوس ، پارک لین لندن یوکے سے ہے۔اِس ریفرنس کی تیاری اور اِس کو دائر کرنے کے لیے جو مواد پہلے سے ہی انوسٹی گیشن کے دوران حاصل ہوا۔اُس کو دیکھا جائے گا اِس کا ذکر تفصیلی فیصلے میں موجود ہے۔کیس کے فیصلے میں جیسے کہ بتایا گیا ہے کہ ریسپانڈنٹ نمبر ایک سا ت اور آٹھ کے خلاف ریفرنس دائر ہوگا جو کہ عزیزیہ سٹیل کمپنی اور ہل میٹل اسٹیبلیشمنٹ کے بارے میں ہے۔ ریسپانڈنٹ نمبر ایک ، سات اور آٹھ کے خلاف ریفرنس اُن کمپنیوں کی بابت دائر ہوگا جن کے متعلق متفقہ رائے سے مسٹر جسٹس اعجاز افضل خان ، مسٹر جسٹس عظمت سعید اور مسٹر جسٹس اعجاز الحسن نے فیصلہ دیا
۔ ریسپانڈنٹ نمبر دس کے خلاف اِسی طرح ریفرنس دائر ہوگا جن کے پاس اُن کی ظاہر کردہ آمدنی سے زائد کے اثاثہ جات ہیں جس کو اِس کیس کے فیصلے کے پیراگراف نمبر نو میں بیان کیا گیا ہے۔ جن کے متعلق متفقہ رائے سے مسٹر جسٹس اعجاز افضل خان ، مسٹر جسٹس عظمت سعید اور مسٹر جسٹس اعجاز الحسن نے فیصلہ دیا ۔ نیب کیس کی سماعت کے دوران دوسرے تمام افراد جن میں شیخ سعید، موسی گیلانی، کاشف مسعود قاضی،جاوید کیانی اور سعید احمد کو بھی شامل کیا جائے گا ۔ کیونکہ اِن افراد کا ڈائرکٹ یا ان ڈائرکٹ تعلق ریسپاونڈنٹ نمبر ایک چھ ، سات آٹھ اور دس کے ساتھ ہے۔ نیب جب محسوس کرئے تو کسی اور اثاثے کی بابت سپلمنٹری ریفرنس دائر کرئے جب یہ محسوس ہو کہ بہتر طور پر اثاثہ جات کی چھان بین نہیں کی گئی ہے۔ احتساب عدالت ریفرنس دائر ہونے کے چھ ماہ کے اندر اندر اِن ریفرنسز کا فیصلہ کرئے۔اگر احتساب عدالت کے سامنے ایسے کاغذات، معائدہ یا بیان حلفی ہوں اور یہ حقیقت آئے کہ یہ جھوٹ فراوراڈ پر مبنی ہیں تو احتساب عدالت ریسپاونڈنٹ کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کرئے۔ الیکشن کمیشن آف پاکسان میاں محمد نواز شریف کو نا اہل قرار دئیے جانے کا نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کرئے۔جس کے بعد اُن کی بطور وزیر اعظم نااہلی ہوجائے گی۔ صدر پاکستان تمام ضروری اقدامات کریں۔ جو کہ جمہوری نظام کو چلانے کے لیے ضروری ہیں۔ نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں ہونے والی کاروائی کو سپروائز کرنے کے لیے جناب چیف جسٹس آف پاکستان ایک محترم جج صاحب کو مقرر فرمائیں۔
سپر یم کورٹ نے پانامہ فیصلے کیخلاف نوازشریف کی طرف سے دائر نظرثانی کی درخواستوں سے متعلق مقدمہ کا تفیصلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظرثانی کیس کی سماعت کے دوران بنچ نے ارکان کو فیصلہ پر نظرثانی کرنے کیلئے قائل نہیں کیا جاسکا۔ یاد رہے نظرثانی کی درخواستوں سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اورجسٹس اعجازالحسن پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی تھی۔ عدالت نے قبل ازیں سماعت کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے نظرثانی کی تمام درخواستیں خارج کردی تھیں۔ 23 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس اعجاز افضل نے تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جب ادارے کام اپناکام نہ کریں تو سپریم کورٹ اس حوالے سے ہدایت دے سکتی ہے۔ درخواست گزار جان بوجھ کراثاثے چھپانے کے مرتکب پائے گئے، بادی النظر میں مریم نواز، لندن فلیٹس کی بینیفیشل مالک ہیں، یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتاکہ لندن پراپرٹی سے کیپٹن صفد رکاکوئی تعلق نہیں تھا۔ عدالتی فیصلے پرعملدرآمدکی روشنی میں نیب میں کیسوں کی نگرانی کیلئے مانیٹرنگ جج کا تقرر ٹرائل پر اثرانداز ہونا نہیں اور نہ ہی نئی بات ہے، مقصد شفاف ٹرائل کو یقینی بنانا تھا، ٹرائل کورٹ عدالت کی کسی آبزر ویشن سے متاثر ہوئے بغیر ریفرنسز کافیصلہ کرے اور اگر شواہد کمزور ہوں توٹرائل کورٹ ان کو مسترد کر سکتی ہے۔ پانامہ فیصلہ میں کسی غلطی یا سقم کی نشاندہی نہیں کی گئی جس پر نظرثانی کی جائے، احتساب عدالت شواہد کی نوعیت پر اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہے، ٹرائل کورٹ ضعیف شواہد کو رد کرنے کا فیصلہ کرنے کی بھی مجاز ہے۔ نوازشریف کی نااہلی سے متعلق حقائق غیرمنتازعہ تھے، یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ فیصلے سے نوازشریف کو حیران کر دیا گیا۔ فیصلہ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے الگ تحریری نوٹ لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ جس نتیجہ پر میں پانامہ کیس میں پہنچے تھے اس پر قائم ہیں، نظرثانی میں کوئی شواہد، کوئی نئے سوالات اور کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس پر اصل پانامہ کیس کے فیصلے میں ترمیم کی جاتی، ساتھی ججز نے بھی نظرثانی مسترد کرنے کے حوالے سے اپنا موقف دیا لہذا نظرثانی اپیل مسترد کردی گئی۔
عدالت نے فیصلہ 15ستمبر کو محفوظ کیا تھا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ نواز شریف کبھی سچائی کے ساتھ سامنے نہیں آئے۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجربنچ نے پانامہ نظرثانی فیصلہ کے صفحہ نمبر 23 پر آبزرویشن دی کہ درخواست گزار نے پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے باہر عوام کو بے و قوف بنانے کی کوشش کی حتیٰ کہ سپریم کورٹ کو بھی بے وقوف بنانے کی کوشش کی جاتی رہی اور انہیں اس بات کا بخوبی احساس بھی تھا۔ آبزویشن میں مزید کہا گیا کہ کچھ لوگوں کو کچھ وقت کیلئے بے وقوف بنایا جاسکتا ہے اور کچھ لوگوں کو ہمہ وقت کیلئے بیوقوف بنایا جاسکتا ہے لیکن سارے لوگوں کو ہمیشہ کیلئے بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا، نوازشریف کو نااہل قرار دینے کے لئے جو شہادتیں آئین وہ ٹھوس اور غیر متنازعہ ہیں، نوازشریف باہمی اتفاق سے ہونے والے نوکری کے معاہدہ میں ایف زیڈ ای کمپنی سے ’’تنخواہ‘‘ لینے کے حق دار تھے، یہ مستقبل کی بات نہیں بلکہ (ماضی) کے اس معاہدے کی بات ہے جس کے تحت وہ (نوازشریف) ساڑھے 6سال تک تنخواہ لیتے رہے جو ان کے اکاؤنٹ میں آکر اکٹھی ہوئی، یہ موقف غلط ہے کہ بینک اکاؤنٹ میں آنے والی تنخواہ نواز شریف کا اثاثہ نہیں تھی، وہ اثاثہ شمار ہوگی، چاہے اسے نکالا جائے یا نہ نکالا جائے۔ فیصلہ میں ایک شعر بھی تحریر کیا گیا کہ133؂ادھر اُدھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا۔مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری
رہبری کا سوال ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ احتساب عدالت کو چھ ماہ میں مقدمہ کا فیصلہ کرنے کی ہدایت سے ٹرائل متاثر نہیں ہو گا۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ پانامہ فیصلہ میں دی گئیں آبزرویشنز عارضی نوعیت کی ہیں، عدالت نے کہا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے معاملے کا محتاط ہوکرجائزہ لیا، فیصلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ نیب، آئی بی، سٹیٹ بینک اور نیشنل بینک میں اعلی شخصیت کا اثر و رسوخ ہے، ایف آئی اے اور ایس ای سی پی میں بھی اعلی شخصیت کا اثرورسوخ ہے، نیب کو جے آئی ٹی کی تحقیقات سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مفروضوں پر مبنی جوابات ہمیشہ مددگار ثابت نہیں ہوتے، قسمت کی طرف سے کسی کو حکمرانی کا موقعہ مل رہا ہے تو اس کا کردار کسی شک و شبہ سے بالا ہونا چاہئے۔ نواز شریف نے تنخواہ کو اثاثہ نہ ماننا اور ٹرسٹ کے حوالے سے ایک ایسے تحریری فونٹ میں درخواست اور ثبوت دینا جو اس پر تحریر تاریخ سے ایک سال بعد عام ہو اس آفس کی توہین ہے۔ نواز شریف نے جان بوجھ کر اثاثے چھپائے، نواز شریف نے کاغذات نامزدگی میں جھوٹا بیان حلفی دیا۔ کاغذات میں تمام اثاثے بتا نا قانونی ذمہ داری ہے، امیدوار نے عوام کی قسمت کے معاملات کو دیکھنا ہوتا ہے، منتخب رکن کو اس معاملے پر رعایت دینا سیاست میں تباہی ہو گی تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ اثاثوں میں غلطی حادثاتی یا غیر ارادی طور پر ہوئی۔ عدالت نہیں چاہتی کہ معاملہ کسی کے حواریوں کے پاس جائے، اقامہ کے معاملہ پر آنکھیں بند نہی کر سکتے۔ نواز شریف کے اقامہ کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کیا گیا۔ اقامے کو اس لئے نظرانداز نہیں کیا کیونکہ یہ وزیراعظم کا معاملہ تھا، نواز شریف عدالتی سوالات کا جواب دینے میں مخلص نہیں تھے، نواز شریف کبھی سچائی کے ساتھ سامنے نہیں آئے۔
سپریم کورٹ کے اِس فیصلے نے ملکی سیاست میں طوفان برپا کردیا ہے ۔ اِس نظرثانی اپیل کے مین فیصلے میں نواز شریف کی نااہلی اور اِس نظرثانی کی پٹیشن میں جسٹس طارق کھوسہ کا یہ کہنا کہ میاں نواز شریف نے پوری قوم کو بے وقوف بنایا ہے۔ یقینی طور پر سٹیٹس کو میں بہت بڑا بھونچال ہے۔ شاید پاکستان کے سماجی ڈھانچے میں کوئی بہتری آسکے۔ اللہ پاک پاکستان پر اپنا کرم فرمائے آمین۔

Facebook Comments