کریمنل پر و سیجر کوڈ 22 اور 22A اور عملی حقیقتتحریر ؛ صاحبزادہ میاں اشرف عاصمی۔

کریمنل پر و سیجر کوڈ 22 اور 22A اور عملی حقیقت
صاحبزادہ میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ۔(سوچ ویب نیوز ،نوائے سوچ )
پاکستانی معاشرے میں اعتدال پسندی کی کمی کیوں ہے؟ذات پات، رنگ و نسل اور فرقے کی بنیاد پر جنگ وجدل کے لیے فوری طور پر تیار ہو جاتے ہیں۔ لیکن رب پاک کے احکاما ت جو نبی پاکﷺ کے توسط سے ہم تک پہنچے ہیں اُسکی روح کو فراموش کر دیا جاتا ہے۔ ایک خدا ایک رسولﷺ پر متفق ایک قوم عملی طور پر ایک ہونے کا ثبوت دینے سے قاصر ہے۔ پاکستانی معاشرے میں جہاں مُسلمان پچانوے فیصد ہیں لیکن رنگ ونسل ، ذات پات اور فرقہ واریت نے قومی یک جہتی کو پارہ پارہ کر رکھا ہے۔ ہماری عدلیہ اور مقننہ اپنے اپنے محور کے گرداب میں پھنسی ہوئی ہیں۔آزاد اور باوقار عدلیہ اپنے فیصلوں کی حد تک توسرخرو ہوئی ہے لیکن اس کے احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے میں اسکا کوئی قصور نہیں۔ وزیراعظم پاکستان کی سزا کا معاملہ ہو یا پھر روزمرہ کے مقدمات کے حوالے سے عدالتوں کے احکامات ہوں انتظامیہ ہر فیصلے پر عمل درآمد نہ کروانے کے لیے ہر وقت تیار رہتی ہے۔کوڈآف کریمنل پر وسیجر 1898 میں سیکشن 22 اور 22-A کا اندراج انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے بہت ہی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ کچھ عرصہ سے یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ پولیس سیشن جج صاحبان کے حکامات جو وہ 22-Aاور 22 سیکشن کے تحت دیتے ہیں اُن کی پرواہ نہیں کرتی۔ہائی کورٹ نے اپنے اختیارات کی بابت سیشن کورٹ کو یہ اختیار دے رکھا ہے لیکن پولیس کا باوا آدم ہی نرالہ ہے جو لوگ اپنے اپنے ا ضلاح میں اس قانون کے تحت ریلیف لینا چاہتے ہیں پولیس ان احکا مات کو خاطر میں نہیں لاتی اگر اسی حوالے سے ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی جائے تو ہائی کورٹ کا استدلال یہ ہے کہ لوئر فورم کو پہلے استمعال کیا جائے۔سیکشن 22 کریمنل پروسیجر کوڈ 1898کے ا لفا ظ
میں صوبائی حکومت کسی خاص مقامی علاقہ کے لیے جسٹس آف پیسں مقرر کر سکتی ہے۔22-A آف کریمنل پروسیجرکوڈ
کے مطابق کسی بھی خاص مقامی علاقہ کے لیے مقرر کردہ جسٹس آف پیس کو سیکشن 54 اور 55 میں تفویض کردہ پولیس کے اختیارات اُس جسٹس آف پیس کو حاصل ہوں گئے۔جسٹس آف پیس کو اپنے مخصوص علاقے میں یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پولیس فورس کے کسی ممبر کی یہ ڈیوٹی لگائے کہ وہ ایسے شخص کو گرفتار کرئے یا فرار ہونے سے روکے جس شخص سے قابل دست اندازی پولیس جرم میں
سرزد ہوا ہو اور اس جرم کی بابت قابل اعتماد اطلاع ملی ہو۔ جسٹس آف پیس جرائم کی روک تھام اور امن وامان میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔کسی بھی پولیس فورس کے ممبر کو جب یہ کہا جائے کہ وہ امن و امان اور جرائم کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرئے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ اُس کو یہ حکم مجاز حکام نے دیا ہے۔ اسی طرح سیکشن 22-A کے سب سیکشن پانچ میں یہ درج ہے کہ جسٹس آف پیس کسی بھی شخص کو جو کہ مخصوص علاقہ کا رہائشی ہو کو شناخت کے حوالے سے سرٹفکیٹ جاری کرسکتا ہے۔ اگر کسی شخص نے کسی دستاویز کی تصدیق کروانی

اس کالم کو بھی پڑھیں ؛ٹرمپ کی دھمکی جوتے کی نوک پر تحریر؛ عقیل خان

 

ہو تو ان دستاویزات کی تصدیق کر سکتا ہے۔ اور جسٹس آف پیس کسی بھی (1) جرم کے مقدمے کے اندراج کا حکم دے سکتا ہے۔

(2) کسی ایک پولیس آفیسر سے کسی بھی کیس کی تفتیش کسی دوسرے آفیسر کو ٹرانسفر کر سکتا ہے۔ (3) اسی طرح پولیس کی ناہلی ، اختیارات سے تجاوز یا سست روی پر بھی ایکشن لے سکتا ہے۔ سیکشن 22 آف کریمنل پروسیجر کوڈ درحقیقت ایکٹ xxxv111 آف کا متبادل ہے۔ سیکشن 22-B کے تحت ججز اور مجسٹرٹیوں کو یہ اختیار تفویض کیا گیا ہے کہ وہ پولیس کی قانون کے مطابق کارکردگی کی نگرانی کریں۔ پی ایل ڈی 2002 ایل ایچ اے کے مطابق 22-Aسیکشن درحقیقت ہائی کورٹ کے اوپر کام کا بوجھ کم کرنے کے لیے ہے۔ اگر لوئر کورٹس کسی معاملے سے چشم پوشی کریں تو پھر ہائی کورٹ ہی اسکو دیکھتی ہے۔2005 YLR3127 کے مطابق سی آرپی سی کا سیکشن بائیس اے اور بائیس بی عدالتی معاملات میں مداخلت نہیں ہے۔ PLD2002KAR328

کے مطابق اگر جسٹس آف پیس کو کسی بھی ایسے واقعہ کی اطلاع ملتی ہے جس سے امن وامان کی صورتحال خراب ہوتی ہے یا کسی جرم کے سرزد ہونے کا پتہ چلتا ہے تو پھر وہ اس طرح کے معاملات کی انکوئری کرکے نزدیکی مجسٹریٹ اور قریبی پولیس اسٹیشن کے انچارج کو رپورٹ دے اورجسٹس آف پیس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر کسی بھی شخص کے متعلق قابل اعتماد اطلاع ہو کہ وہ کسی قابل دست اندازی جرم کا مرتکب ہوا ہے تو وہ اُسکی گرفتاری اور اُسکے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کا حکم دے سکتا ہے۔2007 p.CR.L.J145

کے مطابق فیصلے میں یہ کہا گیا ہے کہ صرف کیس کے اندراج کا حکم دینا کوئی ریلیف نہیں ہے ۔اصل بات یہ ہے کہ قانونی مشینری کو حرکت میں لایا جائے۔ 2004P cr.L.J. 256 کے مطابق سیکشن 182PPC کے تحت ایکشن لینے سے پہلے اُس شخص کو جس کے خلاف ایکشن لینا مقصود ہو اس شخص کو پہلے شوکاز نوٹس دیا جائے گا۔ اگر اُس کے خلاف شوکاز نوٹس دیے بغیر کوئی کاروائی ہوگی تو اُسے غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔2006YLR2772(LAH) کے مطابق ایڈیشنل سیشن ججز کو بطور جسٹس آف پیس ہے اختیار نہ ہے کہ وہ پولیس کو یہ آرڈر کریں کہ ایف آئی آر میں کسی جرم کا اندراج کرئے یا اخراج کرئے۔PLJ 2005Lah 1571

کے مطابق اگر درخواست دہندہ نے متعلقہ اتھارٹی کو پولیس آرڈر 2002 کے U/A 18 کے تحت تفتیش کی تبدیلی کروانے کے لیے درخواست نہ دی ہو تو پھر 22A crpc کے تحت اُس کی درخواست کو نھیں مانا جائے گا۔ اگر متعلقہ بااختیار اتھارٹی نے تفتیش کرنے کے حوالے سے موقف درخواست گزار کے حق میں نہ دیا تو پھر جسٹس آف پیس اس میں مداخلت نہیں کرسکتا۔ ہماری سوسائٹی میں اگر صورتحال دیکھی جائے تو وطن پاک میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی درد نا ک داستانیں ہیں۔ خاص طور پر دیہاتی علاقوں ، گوٹھوں اور دورافتادہ علاقوں میں تو انوکھا راج ہے۔ وڈیرہ، جاگیردار، تھانیدار یہ ہیں لوگ جو عام انسان کا جینا دوبھر کیے ہوئے ہیں۔ جس جمہوریت کا راگ ا لاپا جاتا ہے اُس میں کامیاب صرف وڈیرے اور جاگیردار، سرمایہ دار ہیں۔ اگر راہبر ہی راہزن ہیں تو پھر قافلے کے مقدر میں تو لٹنا ہی ٹھر گیا ہے۔ انسان کتنا مجبور ہے اس کا اندازہ اُن کرائم رپورٹوں سے لگایا جاسکتا ہے ۔ جن کے مطابق قتل، ڈاکہ زنی ، اغوا عام ہو چکا ہے۔ عوام کو تحفظ دینے والی پولیس کو اس جاگیردانہ ، وڈیرہ شاہی نے کرپٹ کرکے اپنے زیر اثر رکھا ہوا ہے۔ اب غریب عوام کی حالت یہ ہے کہ کھل کے جی بھی نہ سکیں اور موت بھی نہ آئے۔ حا لیہ کچھ دنوں سے یہ بات شدت سے محسوس کی جارہی ہے کہ ایڈیشنل

سیشن جج صا حبان بطور جسٹس آف پیس جو حکم جاری کرتے ہیں پولیس اُس کی تعمیل میں لیت و لعل سے کام لیتی ہے۔اور5 22A , 22B, کے قانون کی روح کو پامال کرتی ہے۔پولیس کی طرف سے جسٹس آف پیس کے احکامات کی بروقت بجا آوری نہ ہونے سے عدلیہ کی طاقت پر بھی اُنگلیاں اُٹھ رہی ہیں۔ جب جج صاحب کے فیصلے پر عمل درآمد ہی نہ ہو تو پھر فیصلہ جتنا بھی اچھا ہو اُسکی اہمیت اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔۔ اس لیے ضروری ہے کی پولیس کو ہر قسم کے سیاسی کنٹرول سے آزاد کر دیا جائے۔ایس ایچ او کی تعیناتی صرف اور صرف میرٹ پر ہو۔ پولیس نے اپنے نجی ٹارچر سیل بنا رکھے ہیں اور تھانے کے ساتھ ساتھ ایک اور متوازی تھانے کا نظام بھی قائم کر رکھا ہے۔ انصاف ہوتا نظر تو تب آے گا جب حکومتی مشینری عوام کو انسان تصور کرے گی۔ اس ضمن میں یہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ پولیس محتسب کا محکمہ قا ئم کیا جائے پولیس کے ظلم و ستم کے خاتمے کے لیے پولیس محتسب کو اختیارات دئیے جائیں۔ پولیس افسران کی ناجائز جائیدادوں کا پتہ چلا کر اُن کو ضبط کیا جائے۔ پولیس کے نظام کی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ جب تک جائیدادیں بنانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے پولیس کے محکمے سے کرپشن ختم نہیں ہو سکتی ۔ پولیس کا حتساب ہونا چاہیے وہ بھی اس طرح کی ہر پولیس افسر کی بیلنس شیٹ تیار ہو۔ ذرائع آمدنی ، سماجی مقام، اخراجات اور شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ کا پتہ چلانا چاہیے۔ دین اسلام ایک ضابطہ حیات ہے لیکن نہ جانے کیوں ہمارے معاشرے میں روحانی انداز پنپ نہیں سکا۔ فکر آخرت رب کریم کا خوف ، زندگی کو عا رضی جاننا ان تصورات کے ہوتے ہوئے تو مسلم سوسائٹی دنیا بھر کے تمام ممالک اور مذاہب کے لوگوں کے لیے نشان راہ ہونی چاہے تھی لیکن افسوس جن قوموں کو ہم کافر کو کہتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کفار نے جنت میں نہیں جانا بلکہ جنت صرف مسلمانوں کے لیے ہے۔ ان کفار کے ممالک میں انسانی حقوق بھی انسانوں کو حاصل ہیں اور پولیس و دیگر محکمہ جات بھی قانون پر عمل پیرا ہیں۔ رشوت کرپشن جو ہماری پولیس کا قومی نشان بن چکا ہے۔ اس نشان کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اسلام جیسے عظیم مذہب پر اس کی روح کے مطابق عمل کرکے معاشرے کو امن و سکون کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے بلا امتیاز قانون سب کے لیے ایک جیسا ہونا چاہے۔ با اثر سے بااثر افراد اگر کسی جرم کا ارتکاب کرتے ہیں تو پھر یہ حکمرانوں کے اوپر ہے کہ وہ ان لوگوں کی پکڑ کریں اور انصاف سب کو بلاامتیاز مہیا کریں۔اگر اللہ کی پکڑ سے بچنا ہے تو پھر ان جرائم پیشہ ،رشوت خور پولیس افسران کو پکڑنا ہو گااور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہوگا۔حضرت قائداعظمؒ اور حضرت علامہ اقبال ؒ کے خوابوں کی تکمیل یہ پاکستان کی صرف روح ہی چھلنی نہیں بلکہ اس پاکستان کے جسم کو کو بھی اس طرح نوچا جا رہا ہے جیسے یہ لا وارث ہو۔ 27 رمضان المبارک کی شب وجود میں آنے والی اس سرزمین پاک کو رب تعالیٰ نے قائم رکھنے کے لیے بنایا ہے۔ اس ملک نے ہمیشہ قائم و دائم رہنا ہے۔ اور اس کی جڑیں کھوکھلی کرنے والوں نے آخر جہنم رسید ہونا ہے۔ اگر قانون شکنوں کو قانون کی پکڑ میں نہ لایا گیا تو پھر اللہ کی پکڑ سے پھر کون بچ سکتا ہے۔ حضور نبی کریمﷺ نے انسانیت کا

بول بالا فرما دیا ۔ حتیٰ کہ کفار جو آپ ﷺ کے جانی دشمن تھے ان کے ساتھ بھی حسن سلوک کا مظاہرہ فرمایا ۔ ایام جنگ میں خواتین بچوں اور بوڑھوں پر تلوار اٹھانے سے منع فرمایا۔ جانوروں کے ساتھ بھی آپﷺ نے رحم دلی فرمائی ۔ جب نبی کریم ﷺ نے انسانی وقار اور احترام کا ایک مکمل ضابطہ دیا تو پھر 1400 سال سے زائد عرصہ گزرنے بعد بھی مسلم معاشرہ ابھی تک ارتقاء میں ہے۔ یہ ارتقائی سفر مثبت سمت کی بجائے منفی رجحان کی طرف گامزن ہے۔ عراق، ایران ، مصر ، عرب ممالک شام، لیبیا ، ترکی ، پاکستان ان تمام ممالک میں عوام کے ساتھ بے رحمانہ سلوک ہوتا ہے۔ آمریتیں جہاں جہاں اپنے قدم جمائے ہوئی ہیں وہاں وہاں کے حکمران لوگوں کی قسمت کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔ انسانیت کی قدر کی تعلیم دینے والی مسلمان قوم اب عملی شکل میں انسانیت کی قدر دان کیوں نہیں ہے ، جب رب تعالیٰ بھی وہی ہے۔ جو 1400 سال پہلے تھا اور قرآن بھی وہی ہے۔ نبی کریم ﷺ کا اسوہ حسنہ اور آپ ﷺ رحمتیں بھی جاری و ساری ہیں۔ لیکن ہمارے مسلم معاشروں میں انسانی تشدد ظلم جبر کیوں ہے۔ اس کا سوال ہم سب کو اپنے ضمیر سے کرنا ہے۔ ہمارئے قانونی ڈھانچے میں آخر اتنی لچک کیوں نہیں کہ معاشرے میں رواداری کو فروغ مل سکے۔ اگر کریمنل پر و سیجر کوڈ کی متذکرہ شقوں پر اُس کی روح کے مظابق عمل ہو تو پھر کسی طور بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو سکے گی۔

Facebook Comments