لبیک یا رسول اللہ ﷺ۔ ختم نبوت کا قانون ہے مسلمانوں کا ایمان تحریر ؛صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی

لبیک یا رسول اللہ ﷺ۔ ختم نبوت کا قانون ہے مسلمانوں کا ایمان
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
(سوچ ویب نیوز،نوائے سوچ  )
یہ بات درست کہ ختم نبوت کے حلف کی آئینی شقوں 7بی 7سی کو پارلیمنٹ نے منظور کر لیا ہے۔ ختم نبوت کا قانون پہلے کی طر ح بحال کر دیا گیا۔ چونکہ نواز حکومت اِس وقت بُری طرح دباؤ میں ہے اور اُس نے نبی پاکﷺ کے مقام کے تحفظ اور ختم نبوت ﷺکے قانون پر ڈاکہ ڈالنے والے وزراء کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔ شاید نواز شریف فیملی کو نبی پاکﷺ کی شفاعت کی طلب ہی نہیں رہی۔ اُسے تو بس ایک ہی فکر ہے کہ اُسے کیوں نکالا۔ حالانکہ سپریم کورٹ کے پانچ ججز نے تفصیلی جاری کردیا ہے اور اُن محرکات کا ذکر کیا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کا سبب کیا ہے۔اُدھر سے ڈار جو کہ ملک کے خزانے کے وارث تھے اُنھوں نے خزانے کو خوب زک پہنچائی ہے ۔ اور بیمار حالت میں ملک سے باہر ہیں۔ اُن کی تصاویر اور وڈیو سے نظر آرہا ہے کہ وہ شدید دباؤ میں ہیں شاید اُنھوں نے نوشتہ دیوار پڑھ لیا ہے۔ اُن کا وزن بیس کلو سے بھی زیادہ کم ہوگیا ہے۔ چونکہ اُن کی جناب نواز شریف سے رشتہ داری ہے اِس لیے وہ بھی مقرب ٹھرے۔ اِس سارے کھیل کے دوان جب ہر طرف پانامہ اور اقامہ کا شور تھا۔ ایک گھمبیر صورتحال سامنے آگئی۔ وہ یہ کہ ختم نبوتﷺ کے حلف نامے کو تبدیل کردیا گیا۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارئے ہاں شاید پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ نبی پاکﷺ کی عزت و ناموس کے احساس معاملے میں بھی نواز لیگ کے حامیوں کو سب اچھا نظر آتا رہا ہے۔ اور تو اور جن لوگوں نے ساری زندگی نبی پاک ﷺ کی محبت کے ترانے پڑھے اور اِسی بناء پر سیاست میں کامیابیاں حاصل کیں میری مراد اُن پیر صاحبان سے ہے جو نواز حکومت میں ہیں۔ اُن کے مریدین نبی پاکﷺ کی ختم نبوت کے قانون کے تحفظ کی بجائے اپنے پیر صاحبان کی کرسی کی مضبوطی کے لیے نواز لیگ کے اِس افسوس ناک اقدام کی مذمت نہیں کر پائے شاید اُن کے نصیب میں اب نبی پاکﷺ کے مقام کے تحفظ کی بجائے سیاسی آقاؤں کی حاشیہ برداری لکھ دی گئی ہے۔راقم پچاس سال کی عمر کو پہنچ گیا ہے اور راقم کا تعلق عشق رسولﷺ کی سُرخیل تنظیم انجمن طلبہء اسلام کے ساتھ رہا ہے۔ راقم نے ابھی تک جتنی مرتبہ ووٹ کاسٹ کیا ہے وہ نواز شریف کو ہی دیا تھا۔ لیکن اب جب کرپشن کی کہانیاں نواز شریف کی اپنی حکومت کے دور میں ہی آشکار ہوئی ہیں وہ تو عدالتوں کا کام ہی وہی جانیں۔ لیکن ممتاز قادریؒ کی شہادت اور ختم نبوت کے قانون پر ڈاکہ زنی نواز حکومت کے وہ سیاہ کام ہیں جس سے دیندار طبقے کو بہت تکلیف ہوئی ہے۔ایک بات درست ہے کہ پیر صاحبان جو حکومت کے ساتھ ہیں اُن کی مرضی وہ جس مرضی پارٹی کا ساتھ دیں۔خواہ نواز شریف کے ساتھ ہوں یا کسی اور کے ساتھ۔ لیکن دُکھ اِس بات کا ہے اُنھوں نے ہمیشہ اہلسنت کا پلیٹ فارم استعمال کرکے اپنا سیاسی قد بنایا اور اب وہ ایک ایسے حکمران کی کاسہ لیسی کر رہے ہیں جس کو ملک کی سب سے بڑی عدالت نااہل اور جھوٹا قرار دے چکی ہے۔ راقم کو اِس سے بھی غرض نہیں کہ نواز شریف جو دائیں بازو کی سیاست کرتے رہے اب کسی اور طرف نکل گئے۔ لیکن بات تو نبی پاکﷺ کی ناموس کی ہے۔ بے چارے مریدین اللہ پاک کو اور نبی پاکﷺ کو ناراض کرکے اپنے اپنے پیروں کی خوشامد میں طوطوں کی طرح بول رہے ہیں ۔طاہر القادری اور عمران خان نے دھرنا دیا جو سوا سو دن جاری رہا۔پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملہ کیا گیا۔ حالیہ دنوں میں پہلے ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے دھرنا دیا اور اب مولانا خادم حسین رضوی کئی دنوں سے دھرنہ دئیے ہوئے ہیں اسلام آباد کے شہریوں کو اِس دھرنے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ لیکن اِس دھرنے کی وجہ سے موم بتی مافیا کو بہت تکلیف ہورہی ہے ۔ اور حکومتی حاشہ بردار چینل کھل کر دھرنے کی مخالفت کر رہا ہے۔ غلامی رسولﷺ میں موت بھی قبول ہے کہ نعرے لگانے والے ۔ دُنیا آقاؤوں کو خوش کرنے کے لیے نبی پاکﷺ کے ختم نبوت کے قانون کے اندر ترمیم کرنے والے وزراء کی برطرفی اور سزا کے مطالبے والے دھرنے کو نہ جانے کیا کیا کہہ رہے ہیں۔لیکن حکمران سیاستدان ، قادیانیوں کے ایجنٹ حکومتی مُلاء درباری ڈبہ پیر یہ جان لیں قیامت کے روز کس مُنہ سے نبی پاکﷺ کی شفاعت کے امیدوار ہوں گے۔لبیک یا رسول اللہ ﷺ

Facebook Comments